ایک عورت اپنا جسم کیوں بیچتی ہے …

ایک عورت اپنا جسم کیوں بیچتی ہے …

صبح سویرے مرزا صاحب اپنے ڈیرے کی طرف چلے جاتے تھے، ان کے دونوں بیٹے بھی شام کو ڈیرے پر روانہ ہو جاتے تھے۔ اُن کے باپ کو گھڑ سواری کا بہت شوق تھا اور اسی غرض سے مرزا صاحب نے ڈیرے پر کئی گھوڑے رکھے ہوئے تھے۔ گھوڑوں کو مربعہ جات اور بادام وغیرہ کھلائے جاتے تھے اور دو آدمی ان کی خدمت کے لیے ہر وقت ادھر رہتے تھے۔ مرزا گاؤں کے اکثر فیصلے خود کیا کرتا تھا۔ زمین کا مسئلہ ہو یا جائیداد کی تقسیم کا فیصلہ، یہ سارے معاملات سیٹھ ہی حل کرتا تھا۔ راجہ اور منور دونوں جڑوا بھائی تھے۔ مرزا صاحب جب کبھی شہر کا رخ کرتے تو دونوں کے لیے ایک جیسے کپڑے خرید لاتے۔ کبھی کبھار تو ان کو یہ پتہ نہ چلتا کہ راجہ کون ہے اور منور کون ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں جوان ہوگئے۔ راجہ کو باپ کی طرح گھوڑے پالنے کا بہت شوق تھا، اس نے شوق کی غرض سے ایرانی نسل کے دو گھوڑے مشہد سے منگوائے تھے۔ وہ ان گھوڑوں کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑتا تھا۔ اگر ملازم ان کی خدمت ٹھیک طرح سے نہ کرتے تو وہ انہیں فارغ کر دیا کرتا تھا۔ دوسری طرف منور ایک سیدھا سادھا نوجوان تھا۔ وہ پڑھائی سے فارغ ہو کر اکثر اپنے دوستوں سے ملنے چلا جایا کرتا تھا۔ وہ دوستوں کی طرف نہ جاتا تو گھر ہی میں وقت گزارا کرتا تھا۔ ان کی ماں نے اپنے بیٹوں کو بڑے لاڈ پیار سے پالا تھا جب دونوں گھر سے باہر نکلنے لگتے تھے تو وہ دروازہ پر آکر انہیں دعاؤں سے رخصت کرتی تھی۔

ھر ایک دن ثریا نے بیٹے کوکہا:
’’تم ڈیرے پر لڑکیوں کو منگوا کر ناچ گانا سنتے ہو؟‘‘ تمہیں شرم نہیں آتی۔ باپ کے بڑھاپے کو اس کی کمزوری نہ سمجھوں۔‘‘

منور کی ماں خود اپنے ہاتھوں سے کھلایا کرتی تھی۔ منور نے ایف اے کے بعد پڑھائی چھوڑ دی اور گھر میں اپنے باپ کے پاس رہنے لگ گیا۔ پھر آہستہ آہستہ راجہ اُن کے کنٹرول سے باہر ہونے لگا، جائیداد پہلے ہی تقسیم ہوچکی تھی، وہ اپنے حصے کی زمین بیچ کر شہر چلا گیا۔ ادھر جا کر اس نے کبھی ماں باپ کی خبر تک نہ لی

’’تیرے بیٹے راجہ نے تو تجھے بہت پہلے چھوڑ دیا تھا، اور وہ بدبخت تو باپ کی قبر پر بھی نہ آیا، یہ میں ہی تھا جس نے اتنے سالوں تیری خدمت کی، پر اب میں کیا کروں، خرچے پورے نہیں ہوتے، تم کہیں اور چلی جاؤ۔‘‘ اتنے میں اس کی بیوی بھی کمرے میں داخل ہوگئی بڑھیا کو روتے دیکھ کر وہ اندر ہی اندر سے بہت خوش تھی۔ کیونکہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکی تھی۔ بوڑھی اماں نے سامان اٹھایا اور شدید گرمی میں سڑک کے کنارے چلنے لگ گئی اس کے ایک ہاتھ میں تھیلا تھا اوردوسرے ہاتھ میں چھڑی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں